بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، ٹیلی گرام چینل "سدا فلسطین کے ساتھ" نے 'شید ٹی وی' کی مرتبہ ایک ویڈیو فارسی ترجمے کے ساتھ، نشر کی ہے جس میں مشہور امریکی مصنف اور پوڈ کاسٹر اسکاٹ ہورٹن (Scott Horton) کہہ رہے ہیں: "اسرائیلی فوجی ٹارگٹ پریکٹس مشقوں میں فلسطیںی بچوں ٹارگٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں!
اسکاٹ ہورٹن کا کہنا ہے:
یہ کہ اسرائیل تفریح کے لئے، فائرنگ کی مشق کے لئے بچوں پر گولی چلاتے ہیں۔ اگلے دن ان کہنیوں پر گولی چلاتے ہیں، اگلے دن ان سب کے گھٹنوں یا ان کے دلوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اور جو کچھ ہو رہا ہے یہاں، کہ اسرائیلی تفریح کے لئے اور فائرنگ کی مشق کرنے کے لئے ان پر گولی چلاتے ہیں۔
بچوں کو 'نشانے' کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے نشانہ بازی کی مشق کے لئے۔ [منصوبہ بناتے ہیں کہ] آج ان کے سروں کو نشانہ بنائیں گے، کل ان کے سینوں کو۔ بالکل نازیوں کی طرح فلم 'شندلر لسٹ' (Schindler's List) میں؛ انتہائی بے رحمی کے ساتھ۔ کہ جب اس سرخ کوٹ پہننے والی بچی کو مار رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو اسرائیلی کر رہے ہیں، اور انہیں زندہ در گور کرتے ہیں۔ اس قدر انہیں بھوک دے رہے ہیں کہ مر جائیں۔ پھر انہیں مجبور کرتے ہیں کہ ایک ہجوم میں اکٹھے ہوجائیں اور پھر ان پر مشین گنوں سے گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں، صحیح؟ اگر یہ ایک فلم ہوتی، تو آپ کہتے کہ بہت زیادہ مبالغہ آمیز ہے؛ بہت زیادہ بناوٹی ہے، یہ سچ نہیں ہو سکتا! لیکن یہ بالکل وہی چیز ہے جو وہ [صہیونی] ہیں۔
بالکل اسی طرح فلسطینیوں کے ساتھ برتاؤ روا رکھتے ہیں۔
وہ [یہودی] ان کی انسانیت کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ ان کے خیال میں 'گوئیم" (غیر یہودی اور گنہگار) ہیں، بادامی آنکھوں والے ہیں، گندے ہیں۔ وہ گوئیم (غیر یہودی) ہیں۔ وہ ٹڈی ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سب کو مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ